امام کے سپاہی

حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ٘) کے سپاہی مختلف قوم وملت پر مشتمل ہوں گے اور قیام کے وقت ایک خاص انداز میں بلائے جائیں گے جو لوگ پہلے سے کمانڈر معین کئے جاچکے ہوں گے لشکر کی رہنمائی اور جنگی طریقوں کے بتانے کی ذمہ داری لے لیں گے جو سپاہی حضرت کے لشکر میںخاص شرائط سے قبول کئے گئے ہوں گے وہ خود بخود خصو صیت کے مالک ہوں گے ۔

اس فصل میں اس موضوع سے متعلق روایات ملاحظہ ہوں۔

الف) لشکر کے کمانڈر

روایات میں ایسے لوگوں کا نام ہے جو یا تو اس عنوان سے نام ہے جو خاص فوجی مشق کریں گے یا کچھ لشکر کی کمانڈری کریں گے اس حصے میں ان کے اسماء اور کار کردگی بیان کریں گے ۔

۱۔حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)

امیر الموٴ منین (علیہ السلام) ایک خطبہ میں فرماتے ہیں کہ: اس وقت حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) جناب عیسیٰ (علیہ السلام) کو دجّال کے خلاف حملے میں اپنا جانشین بنائیں گے جناب عیسیٰ (علیہ السلام) دجا ل کو شکست دینے کے لئے روانہ ہوں گے دجال وہ ہے جو پوری دنیاپراپنا تسلط جما کے کھیتوں کو اورا نسانی نسل کو جمع کر کے لوگوں کو اپنی طرف دعوت دے گا جو قبول کر لے گا اس کی عنایتوں کا مرکز ہوگا اور اگر انکار کردے گا تو اسے قتل کردے گا مکہ ، مدینہ بیت المقدس کے علاوہ پوری کائنات کو درہم و برہم کر دے گا اور جتنی نا مشروع اولادہیں اس کے لشکر سے ملحق ہو جائیں گی۔

دجال حجاز کی سمت حرکت کرے گااور عیسیٰ (علیہ السلام) سے”ہر سا“میں اس سے ملاقات ہوگی تو دردناک صدا بلند کریں گے اور ایک کاری ضرب اسے لگائیں گے اور اسے آگ کے شعلوں میں پگھلادیں گے جس طرح موم آگ میں پگھلتی ہے۔

ایسی ضرب جس سے دجال پگھل جائے یہ اس زمانے کے جدید ترین اسلحوں کے استعما ل سے ہوگا ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اعجاز کی حکایت کرے۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی خصوصیت میں بیان ہوا ہے کہ: آپ اس درجہ ہیبت رکھتے ہوں گے کہ دشمن دیکھتے ہی موت کو یاد کرنے لگے گا یا یہ کہوں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی جان کا قصد کر لیا ہے ۔

۲۔شعیب بن صالح

حضرت امیرالموٴ منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں : کہ سفیانی اور کالے پرچم والے ایک دوسرے کے روبرو ہوں گے جب کہ ان کے درمیان ایک بنی ہاشم کا جوان ہوگا جس کے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر سیاہ نشان ہوگا اور لشکر کے آگے آگے قبیلہٴ بنی تمیم سے شعیب بن صالح ہوں گے۔

حسن بصری کہتا ہے:سرزمین ری میں شعیب بن صالح نامی شخص جس کے چار سبز شانے ہوں گے اور داڑھی نہ ہوگی خروج کرے گا اور چار ہزار کا لشکر اس کے ماتحت ہو گا ان کے لباس سفید

اور پر چم سیاہ ہوں گے وہ لوگ حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ٘) کے مقدمة الجیش میں سے ہوں گے۔

عمار یاسر فرماتے ہیں : شعیب بن صالح حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کا علم دارہے۔

شبلنجی کہتا ہے: حضرت مہدی کے لشکر کا پیشرو کمانڈر شعیب بن صالح ہے جو قبیلہٴ بنی تمیم سے ہوگا اور جس کی داڑھی کم ہوگی۔

محمد بن حنفیہ کہتے ہیں : خراسان سے سفید پوش ،سیاہ کمر بند والے سپاہی چلیں گے مقدمة الجیش کے علاوہ ایک کمانڈر شعیب بن صالح یا صالح بن شعیب کے نام سے ہوگا جو قبیلہٴ بنی تمیم سے ہے یہ لوگ سفیانی لشکر کو شکست دیکر بھاگنے پر مجبور کریں گے اس کے بعد بیت المقدس میں پڑاوٴ ڈالیں گے اور حضرت مہدی کی حکومت کی بنیاد ڈالیںگے۔

۳۔امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے فرزند اسمعٰیل اور عبد بن شریک

 ابو خدیجہ کہتا ہے:کہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا ؛کہ میں نے خدا سے چاہا کہ میری جگہ(میرے بیٹے)اسماعیل(علیہ السلام) کو قرار دے لیکن خدا نے نہیں چاہا اور اس کے بارے میں ایک دوسرا مقام عطا کیا وہ پہلا شخص ہے جو دس لوگوں میں حضرت کے اصحاب کے 

ساتھ ظہورکرے گا اور عبد اللہ بن شریک ان دس میں ایک ہے جو پرچم دار ہوگا۔

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں ؛ گویا میں عبد اللہ بن شریک کو دیکھ رہا ہوں جو سیاہ عمامہ پہنے ہوئے ہے اور عمامہ کا دونوں سرا شانوں پر لٹک رہا ہے اور چار ہزار سپاہیوں کے ہمراہ حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ٘)کے آگے آگے پہاڑ کے دامن سے اوپر چڑھ رہا ہے اور مسلسل تکبیر کہہ رہا ہے۔

۴۔عقیل و حارث

حضرت علی(علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ: حضرت مہدی لشکر کو تحریک کریں گے تاکہ عراق میں داخل ہو جائیں جب کہ سپاہی آگے آگے اور آپ پیچھے پیچھے حرکت کر رہے ہوں گے۔ لشکر طلعیہ کا کمانڈر عقیل نامی شخص ہوگا اور پچھلے لشکر کی کمانڈری حارث نامی شخص کے ذمّہ ہوگی۔

۵۔جبیر بن خابور

امام جعفر صادق (علیہ السلام) امیر الموٴ منین (علیہ السلام) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:”کہ یہ شخص (جبیر )جبل الاھواز پرچار ہزار اسلحوں سے لیس لشکر کے ساتھ ہم اہل بیت (علیہم السلام )کے قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور کا انتظار کررہے ہیں پھر یہ شخص حضرت کے ہمراہ اورآپ کے ہمرکاب دشمنوں سے جنگ کرے گا۔

۶۔مفضل بن عمر

 امام جعفر صادق(علیہ السلام)نے مفضل سے کہا: تم دیگر ۴۴/ آدمیوں کے ساتھ حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ)کے ہمراہ ہوگے تم حضرت کے داہنے طرف امر و نہی کروگے اور اس زمانے کے لوگ آج سے زیادہ تمہاری اطاعت کریں گے۔

۷۔اصحاب کہف

حضرت امیر الموٴ منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ اصحاب کہف حضرت مہدی ( عجل اللہ تعالی فرجہ) کی مدد کو آئیں گے۔

ب) سپاہیوں کی قومیت

حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ٘) کی فوج مختلف قوم وملت سے تعلق رکھتی ہوگی اس سلسلے میں روایات مختلف ہیں کبھی عجم کا ان کے سپاہی میں نام آتا ہے تو کبھی غیر عرب کا بعض روایتیں ملک اور شہر کا بھی نام بتاتی ہیں کبھی خاص قوم کا جیسے بنی اسرائیل کے تائب لوگ ، مسیحی مومنین، رجعت یافتہ لائق افراد و۔

اس فصل میں اس سلسلے میں بعض روایات ذکر کریں گے۔

۱۔ ایرانی

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایرانیوں کی معتد بہ تعداد حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے لشکر میں ہوگی کیونکہ روایات میں ۔اہل ری ،خراسان گنج ھای طالقان (طالقان کے خزانے) قمی، اہل فارس وکے ذریعہ تعبیر ہوئی ہے۔

امام محمدباقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں : کہ پرچم والی فوج جو خراسان سے قیام کرے گی کوفہ آجائے گی اور جب حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) شہر مکہ میں ظہور کریں گے تو ان کی بیعت کرے گی۔

امام محمدباقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں : کہ غیر عرب اولاد میں امام قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے چاہنے والے ۳۱۳/افراد ہوں گے۔

عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں :کہ رسول خدا نے فرمایا :کہ تمہاری طاقت (مسلمانوں کی) عجم کے ذریعہ ہوگی وہ لوگ ایسے شیر ہیں جو کبھی جنگ سے فرار نہیں کریں گے تمہیں (عربوں کو) قتل کریں گے اور لوٹ لیں گے ۔(۱)

خذیفہ بھی رسول خدا سے اسی مضمون کی روایت نقل کرتے ہیں ۔ لیکن اس روایت کی دلالت میں شک و اشکال ہے روایت کے مطابق ایک دن ایساآئے گا کہ ایرانی اسلام کی وسعت اور تم عربوں سے اسلام لانے کے لئے تلوار چلائیں گے اور گردنیں اڑادیں گے اس وقت عربوں کی حالت ناگفتہ بہ ہوگی اور سخت و دشوار حالات کا انھیں سامنا ہوگا۔

اگر چہ عجم غیر عرب کو کہا جاتا ہے لیکن قطعی طور پر ایرانیوں کو بھی شامل ہے دوسری روایات کے مطابق ظہور سے قبل اور قیام کے وقت مقدمہ سازی اورراہ ہموار کرنے میں ایرانیوں کا بہت بڑا ہاتھ ہوگا اور زیادہ تعداد میں جنگ کے لئے آمادہ ہوں گے۔

حضرت علی (علیہ السلام) کے ایک خطبہ میں حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ناصروں کے اسماء شہر کے ساتھ بیان ہوئے ہیں ۔

اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں:کہ حضرت علی (علیہ السلام) نے ایک خطبہ کے ضمن میں حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ان ساتھیوں کا جو حضرت کے ساتھ قیام کریں گے شما ر کیا اور کہا:اھواز سے ایک آدمی شوشتر سے ایک شیراز سے ۳آدمی ،حفص ، یعقوب،علی نامی، اصفہان سے ۴/ موسیٰ ،علی،عبد اللہ و غلفان نامی،بروجرد سے ایک قدیم نامی، نہاوند سے ایک عبد الرزاق نامی، ہمدان سے تین(۳) جعفر، اسحق ،موسیٰ نامی ، اور قم سے دس آدمی جو اہل بیت رسول خدا   کے ہمنام ہوں گے،

(ایک دوسری حدیث میں ۱۸/ آدمی مذکور ہیں۔شیروان سے ۱۔خراسان سے ۱۔زید نامی اور پانچ زید جو اصحاب کہف کے ہمنام ہوں گے ،آمل سے۱۔جرجان سے ۱۔دامغان سے ۱۔سرخس سے ۱۔ساوہ سے ۱۔طالقان سے ۲۴ آدمی، قزوین سے ۲۔فارس سے ۱ ابھر سے۱۔اردبیل سے ۱۔ مراغہ سے ۳ ۔خوئی سے ۱۔ سلماس سے ۱۔ آبادان سے ۳۔ گازرون سے۱۔ آدمی ہوگا ۔

پھر حضرت امیر الموٴ منین (علیہ السلام) نے فرمایا : کہ رسول خدا نے حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ٘) کے ناصروں کی تعداد ۳۱۳/ بیان کی ہے مانند یا ران بدر ۔اور فرمایا:کہ خدا وند عالم انھیں مشرق و مغرب سے پلک جھپکنے سے پہلے کعبہ کے کنارے جمع کر دے گا۔

حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے قیام کے آغاز میں آپ کے مخصوص سپاہیوں کی تعداد ۳۱۳ ہے جیسا کہ مشاہدہ کر رہے ہیں۔

۷۲/ افرادداخل ایران کے شہروں سے ہوںگے اور اگر دلائل الامامة(۲) طبری کی نقل کے مطابق حساب کیا جائے یا ان شہروں کے نام کے اعتبار سے جو اس زمانے میں ایران میں شمار ہوتے تھے ایرانی سپاہیوں کی تعداد اس سے زیادہ ہو جائےگی ۔

اس روایت میں کبھی ایک شہر کا دوبار نام آیا ہے یا یہ کہ ایک ملک سے چند شہر کا نام ہے اس وقت ملک کا نام بھی مذکور ہے۔

 روایت کے صحیح ہونے کی صورت میں اس وقت کی تقسیم اور نامگذاری کا پتہ دیتی ہے آج کی جغرافیائی تقسیم معیار نہیں بن سکتی ،اس لئے کہ نام بدل گئے ہیں کبھی ایک شہر کانام اس وقت ملک کا نام تھا موجود ہ جغرافیائی نقشہ پر ان شہروں کے نام کی مطابقت کرنے سے نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ حضرت کے ناصرو یاور دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ۔اور ممکن ہے کہ خصوصیت کے ساتھ لفظ ”افر نجہ“کا روایت میں ذکر یورپ زمین کی طرف اشارہ ہو۔ اگر یہ بات اور مطابقت صحیح ہوتو روایت کا جملہ ”لو خلیت قلبت“بامعنی ہو جائے گا اس لئے کہ زمین کسی وقت نیک افراد سے خالی نہیں رہے گی ورنہ نابود و فنا ہو جائے گی۔

دوسری روایات میں خصوصاً شہروں کے نام مذکور ہیں کہ یہاں پر چند شہروں کے نام مانند قم ،خراسان ،طالقان پر اکتفاء کرتے ہیں ۔

قم

 امام جعفر صادق (علیہ السلام) ”قم“ کے بارے میںفرماتے ہیں کہ: شہر قم پاکیزہ و مقدس ہے کیا تمہیں نہیں معلوم کہ وہ لوگ ہمارے قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ٘) کے ناصر و مدد گار اور حق کی دعوت دینے والے ہیں ؟۔“(۱)

عفان بصری کہتے ہیں : کہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) مجھ سے فرماتے تھے: ” کیا تم جانتے ہو کہ شہر قم کو ”قم“ کیوں کہتے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : خدا اور رسول اور آپ بہتر جانتے ہیں، توآپ نے کہا: اس لئے کہ قم کے لوگ قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ساتھ رہیں گے اور ان کی ثبات قدمی کے ساتھ مدد کریں گے ۔ (۲)

خراسان

امیر الموٴ منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ: رسول خدا نے فرمایا کہ خراسان میں

ایسے خزانے ہیں جو سونے چاندی کے نہیں ہیں بلکہ ایسے ہیں جن کا عقیدہ خدا او ر رسول پر ان کو ایک جگہ جمع کر دے گا۔ شاید ان کی مراد یہ ہو کہ ان کا خدا ورسول پر اعتقاد اشتراکی ہو یا یہ کہ سب کو خداوند عالم مکہ میں یکجا کردے گا۔

طالقان

حضرت امیر الموٴ منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ طالقان والوں کے لئے مژدہ و خو شخبری ہے! اس لئے کہ خدا وند عالم کا وہاں سونے اور چاندی کے علاوہ خزانہ ہے یعنی وہاں مومنین ہیں جو خدا کو حق کے ساتھ پہچانتے اور وہی لوگ آخر زمانہ میں حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے یاور و مدد گار ہوں گے ۔

۲۔عرب

حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ساتھ قیام کے بارے میں عربوں سے متعلق دو طرح کی روایتیں ہیں بعض حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ٘)کے انقلاب میں ان کی عدم شرکت پر دلالت کرتی ہیں اور کچھ روایتیں عرب ممالک کے کچھ شہروں کا نام بتاتی ہیں کہ وہاں سے کچھ لوگ حضرت کی پشت پناہی میں قیام کریں گے۔

جو روایات عربوں کے شرکت نہ کرنے پر دلالت کرتی ہیں اگر سند صحیح ہو تو بھی قابل توجیہ ہیںاس لئے کہ ممکن ہے کہ حضرت کے آغاز قیام میں مخصوص سپاہیوں میں عرب شامل نہ ہوں جیسا کہ شیخ حر عاملی ۺ اپنی کتاب اثبات الہداة میں ایسی ہی تشریح کرتے ہیں ،اور جو عربی شہروں کے روایت میں نام بتائے گئے ہیں ممکن ہے وہاں سے غیر عرب سپاہی حضرت کی مدد کے لئے آئیں

نہ وہ لوگ جو اصل عرب ہوں یا یہ کہ اس سے مراد عربی حکومتیں ہیں ۔اس طرح کی روایات پر توجہ کیجئے۔ 

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں:کہ عربوں سے بچو اس لئے کہ ان کا مستقبل خراب و خطر ناک ہے کیا ایسا نہیں ہے کہ ان میں سے کوئی حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ساتھ قیام نہیں کرے گا “۔

شیخ حر عاملی ۺ فرماتے ہیں : کہ شاید امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی گفتگو کا مطلب یہ ہو کہ آغاز قیام میں وہ شرکت نہیںکریں گے یا کنایہ ہو کہ اگر شرکت کریں گے تو ان کی تعداد کم ہوگی ۔

رسول خدا فرماتے ہیں : کہ سر زمین شام سے شریف و بزرگ لوگ حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) سے متمسک ہوں گے نیز شام کے اطراف سے مختلف قبیلے کے لوگو ں کے دل فولاد کے مانند ہیں وہ لوگ شب کے پاکیزہ سیرت اور دن کے شیرہیں۔“

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں :کہ ۳۱۳/ افراد جنگ بدر والوں کی تعداد میں رکن و مقام (کعبہ) کے درمیان حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)کی بیعت کریں گے ان لوگوں میں بعض بزرگ مصر اور بعض نیک خو شام سے اور بعض پاکیزہ سیرت عراق سے ہوں گے حضرت جب خدا کی مرضی ہوگی حکومت کریں گے۔“

نیزامام محمد باقر(علیہ السلام) شہر کوفہ کے بارے میں فرماتے ہیں : کہ جب حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے تو خدا وند عالم ۷۰/ ہزار افراد کو کوفہ کی پشت سے(نجف) جو سچے اور صادق ہوں گے مبعوث کرے گا وہ لوگ حضرت کے اصحاب و انصار میں ہوںگے۔

مختلف ادیان کے پیرو کار

مفضل کہتے ہیں: کہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا : کہ جب قائم آل محمد (عجل اللہ تعالی فرجہ)قیام کریں گے تو کچھ لوگ کعبے کی پشت سے ظاہر ہوں گے جو درج ذیل ہیں۔ موسیٰ(علیہ السلام) کی قوم سے ۲۸/ آدمی۔جو حق کا فیصلہ کریں گے۔۷/ آدمی اصحاب کہف سے،یوشع جناب موسیٰ کے وصی ،مومن آل فرعون ، سلمان فارسی،ابا دجانہ انصاری،(۱) مالک اشتر“ 

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں : کہ ارواح مومنین آل محمد کو رَضْوٰی نامی پہاڑ میں مشاہدہ کریں گی اور انھیں کے کھانے اور پانی سے شکم سیر ہوں گے ان کی مجلسوں میں شرکت کریں گی اور ان سے ہم گفتگو ہوں گی جب تک کہ ہمارے قائم آل محمد (عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام نہ کریں ،جب خدا وند عالم ان کو مبعوث کرے گا تو گروہ گروہ آکر حضرت کی دعوت قبول کریں گے اور حضرت کے ساتھ آئیں گے اس وقت باطل عقیدے والے شک و تردید میں پڑجائیں گے اور پارٹیاں ،احزاب،حمایت و طرفداری و پیروی کے دعویدار ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں گے اور مقرب الٰہی (مومنین) نجات پائیں گے۔ “

 ابن جریح کہتا ہے کہ :میں نے سنا ہے کہ جب بنی اسرائیل کے بارہ۱۲/ قبیلوں نے اپنے نبی کو قتل کر ڈالا اور کافر ہوگئے ،تو ایک قبیلہ اس رفتار سے پشیمان ہوا اور اپنے گروہ سے بیزار ہو کر خداوند عالم سے خود کو دیگر قبیلوں سے جداہونے کی درخواست کی خدا وند عالم نے زمین کے نیچے

ایک سرنگ بنادی اور وہ لوگ ڈیڑھ سال تک اس میں چلتے رہے یہاں تک کہ سرزمین چین کی پشت سے باہر آئے اور ابھی وہیں زندگی گذا ر رہے ہیں وہ لوگ مسلمان ہیں اور ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرتے ہیں ۔

بعض لوگ کہتے ہیں : کہ جبرئیل شب معراج رسول خدا کو ان کے پاس لے گئے تو حضرت نے قرآن کے مکی سوروں میں سے دس سورہ کی تلاوت کی وہ لوگ ایمان لے آئے اور آپ کی رسالت کی تصدیق کی ۔رسول خدا نے انھیں حکم دیا کہ یہیں پر قیام کریں اور سنیچر کو (یہودیوںکی تعطیل کے روز) اپنے کاموں کو ترک کردیں ،نماز برپا کریں اور زکاة دیں ان لوگوں نے بھی قبول کیا اور اس وظیفے کو انجام دیا اور ابھی کوئی دوسرا فریضہ واجب نہیں ہوا تھا۔

ابن عباس کہتے ہیں : آیہ مبارکہ <وَ قُلْنَا مِنْ بَعْدِہِ لِبَنِیْ اِسْرَائِیِل  اسْکُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَاْ جَاءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَاْ بِکُمْ لفیفاً>

 اس کے بعد بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ اس زمین پر سکو نت اختیار کریں اور جب وعدہ آخرت آپہنچے گا تو وہاں سے تمہیں بلالیں گے لوگوں نے کہا ہے کہ وعدہٴ آخری سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ظہور ہے کہ آنحضرت کے ساتھ بنی اسرائیل قیام کریں گے لیکن ہمارے اصحاب روایت کرتے ہیں کہ وہ لوگ حضرت قائم آل محمد (عجل اللہ تعالی فرجہ٘) کے ہمراہ قیام کریں گے۔

آیہ شریفہ <وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰی یَھْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِہٖ یَعْدِلُوْن>۔”حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے ایک ایک گروہ ہدایت پائے گا اور “اس دین کی طرف لوٹ آئے گا“ (لوگوں کو دین اسلام اور قرآن کی دعوت دیں گے 

مرحوم مجلسیۺ فرماتے ہیں: کہ وہ امت کون ہے اس میں اختلاف نظر ہے۔

بعض جیسے ابن عباس کہتے ہیں :کہ وہ وہی قوم ہے جو چین کی طرف زندگی گذارتی ہے نیز ان کے اور چین کے درمیان ریتیلے بیابان کا فاصلہ ہے وہ لوگ کبھی حکم الٰہی میں تبدیلی نہیںلائیں گے۔

امام محمد باقر(علیہ السلام) ان کی وصف میں فرماتے ہیں :کہ وہ لوگ کسی مال کو اپنے سے مخصوص نہیں سمجھتے مگر یہ کہ اپنے دینی بھائی کو اس میں شریک کریں وہ رات کو آرام اور دن کو کھیتی باڑی میں مشغول رہتے ہیں لیکن ہم میں سے کوئی ان کی سر زمین تک اور ان میں سے کوئی ہماری سر زمین تک نہیں آئے گا وہ لوگ حق پر ہیں۔

 آیہ شریفہ <وَمِنَ الَّذِیْنَ قَاْلُوْا اِنَّانَصَاَرَیٰ اَخَذْنَاْ مِیْثَاقَھُمْ فَنَسُوْا حَظَّامِمَّا ذُکِرُوْ ا بِہٖ>۔”ان میں سے بعض نے کہا: ہم عیسائی ہیں ،تو ہم نے ان سے عہد و پیمان لیا کہ وہ کتاب الٰہی اور رسول خدا کے پیرو رہیں گے ۔ان لوگوں نے انجیل میں مذکور پند و نصیحت کو بھلا دیا اور حق کے مخالف ہوگئے “۔

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ: نصاریٰ اس راہ و روش کو یاد کریں گے اور حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ہمراہ ہو جائیں گے “

۴۔جابَلْقَاْ و جَاْبَرْسَا۔

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ خدا وند عالم کا مشرق میں جابلقا نامی شہر ہے اس میں بارہ ہزار سونے کے دروازے ہیں ایک درسے دوسرے در کا فاصلہ ایک فرسخ ہے ۔ہر در پر ایک برجی ہے جس میں ۱۲/ ہزار پر مشتمل لشکر رہتا ہے وہ اپنے تمام جنگی سامان و ہتھیار و تلوار سے آمادہ حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور کے منتظر ہیں نیز خدا وند عالم کا ایک شہر جابرسا نامی مغرب میں ہے (انھیں تمام خصوصیات کے ساتھ)اور میں ان پر خدا کی حجت ہوں ‘۔ ‘

اس کے علاوہ متعدد روایات پائی جاتی ہیں کہ ان شہروں اور زمینوں کے علاوہ بھی شہروں کا وجود ہے کہ جہاں کے لوگ بھی خدا کی نافرمانی نہیں کرتے مزید معلومات کے لئے بحار الانوار کی ۵۴ جلد کا مطالعہ کیجئے تمام روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) پوری دنیا میں آمادہ لشکر اور چھاوٴنی رکھتے ہیں جو ظہور کے وقت جنگ کریں گے لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ برسوں پہلے مر چکے ہیں خدا وند عالم انھیں حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی مدد کے لئے دو بارہ زندہ کرے گا وہ دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور رجعت کریں گے۔

اورمشغول جہاد ہوجائیں گے۔

نیز حمران اور میسر کے بارے میں فرماتے ہیں : کہ گویا حمران بن اعین اور میسر بن عبد العزیز کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ لوگ تلوار ہاتھوں میں لئے صفاو مروہ کے درمیان لوگوں کو خطبہ دے رہے ہیں۔ “

آیة اللہ خوئی ۺ معجم الرجال الحدیث میں ((یخبطان الناس))شمشیر سے مارنے کی تفسیر کرتے ہیں ۔

اسی طرح حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے داوٴد رقی کی طرف نگاہ کرکے کہا: ”جو حضرت قائم کے انصار کو دیکھنا چاہتا ہے وہ اس شخص کو دیکھے ۔(یعنی یہ شخص حضرت کے ناصر وں میں ہے) اور دوبارہ زندہ کیا جائے گا ۔“

ج)سپاہیوں کی تعداد

حضرت امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے لشکر اور ان کے ساتھیوں کے سلسلے میں مختلف روایتیں ہیں بعض روایتیں ۳۱۳/ کی تعداد بتاتی ہیں بعض دس ہزار اور اس سے زیادہ بتاتی ہیں۔ یہاں پر دو نکتہ قابل ذکر ہے۔

الف)روایت میں ۳۱۳/ کی تعداد حضرت کے خاص الخاص جو آغاز قیام میں حضرت کے ہمراہ ہوں گے اور وہی لوگ امام زمانہ کی عالمی حکومت میں کار گزاروں میں ہوں گے (یعنی وزراء سفراؤ( جیسا کہ مرحوم اربلی ۺ کشف الغمہ میںفرماتے ہیں : کہ دس ہزار والی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت کے سپاہیوں کی تعداد ۳۱۳/ میں محدود نہیں ہے بلکہ جیسا کہ روایات سے بھی استفادہ ہوتا ہے کہ یہ ساری تعداد ان سپاہیوں کی ہے جو ظہور کے وقت یا جنگ کے کسی خاص موقع پر دنیا کے کسی گوشہ سے شرکت کریں گے شاید اس کے علاوہ بھی مطالب ہوں جسے ہم نہیں جانتے اور ظہور کے بعد روشن ہوں۔

۱۔مخصوص افواج

ظبیان کے بیٹے یونس کہتے ہیں :کہ میں امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں تھا کہ حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ٘) کے انصار کی بات چلنے لگی توآ پ نے کہا ان کی تعداد ۳۱۳/ ہے اور ان میں سے ہر ایک خو د کو ۳۰۰ / سو آدمی سمجھتا ہے ”ان میں سے ہر ایک خود ۳۰۰ /میں سمجھتا ہے۔ “  

دو احتمال ہے ۱۔ ہر ایک کی جسمی توانائی ۳۰۰/ سو کے برابر ہے جیسا کہ اُس وقت ہر مومن کی توانائی ۴۰/ مرد کے برابر ہوگی، ۲۔ہر ایک ۳۰۰/ سو فوج رکھتے ہیں کہ خود کو ۳۰۰/ کی تعداد کے درمیان دیکھتے ہیں جو ان کے ماتحت ہیں اس احتما ل کی بناء پر وہ لوگ ۳۰۰/ پر الگ الگ مشتمل فوج کی کمانڈری کریں گے اور احتمال ہے کہ وہی ظاہر لفظ مراد ہو یعنی ہر ایک خود کو ۳۰۰/ میں ایک سمجھتا ہے جیسا کہ بعض نے کہا ہے ۔

امام زین العابدین (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ: وہ حضرت کی مدد کے لئے اپنے بستر سے غائب ہوجائیں گے ۳۱۳/ کی تعداد اہل بدر کی تعداد ہے اس شب کی صبح یعنی دوسرے دن وہ مکہ میں اکٹھا ہوں گے ۔(۱)

امام جواد (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا : امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ) سر زمین تھامہ سے ظہور کریں گے اس میں سونے ،چاندی کے علاوہ خزانہ ہے،وہ لوگ اصحاب بدر کی تعداد میں قوی گھوڑے اور نامی گرامی مرد ہیں، وہ ۳۱۳/ میں جو دنیا سے ان کے ارد گرد آئیں گے مہر کردہ کتاب حضرت کے سا تھ ہے جس پر ساتھیوں کی تعدا د نام اور شہر ،قبیلہ،کنیت نیز تمام پہچان کے ساتھ اس پر لکھی ہوئی ہے وہ سب کے سب حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ٘) کی اطاعت کے لئے کو شش کریں گے ۔“

رسول خدافرماتے ہیں ”لوگ پرندوں کی مانند ان کے گرد جمع ہوجائیں گے تاکہ ۳۱۴/ مرد جس میں عورتیں بھی ہوں گی ان کے پاس آئیں گے اور آنحضرت ہر ظالم اور اولاد ظالم پر کامیاب ہوں گے اور ایسی عدالت قائم ہوگی کہ لوگ آرزوکریں گے کہ کاش مردے زندوں کے درمیان ہوتے اور عدالت سے فیضیاب ہوتے۔

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں : کہ حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) اپنے ۳۱۳/ ساتھی جو اہل بدر کی تعداد میں ہیں ۔کے ہمراہ کسی آگاہی اور پہلے سے کوئی وعدہ کئے بغیر ظاہر ہوجائیں گے ؛جب کہ وہ بہارکے بادل کی طرح پرا کندہ ہیں وہ لوگ دن کے شیر اور رات کے رازو نیاز کرنے والے ہیں ۔“

ابان بن تغلب کہتے ہیں:کہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:کہ عنقریب ۳۱۳/ آدمی تمہاری مسجد(مکہ) میں آئیں گے مکہ والے جانتے ہیں کہ یہ اپنے آباوٴ واجداد کی طرف منسوب نہیں ہیں (اور مکہ والوں میں سے بھی نہیںہیں) ان میں سے ہر ایک کے پاس ایک تلوار ہوگی ہر تلوار پر لکھا ہو گا کہ اس کلمہ سے ہزار کلمہ(مشکل) حل ہوگی ۔

بعض روایات میں ان بعض کا نام بھی درج ہے کہ اس سلسلے میں دو روایت پر اکتفاء کر رہاہوں ۔

امام جعفر صادق (علیہ السلام) مفضل بن عمر سے فرماتے ہیں : کہ تم اور ۴۴/ آدمی اور حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ٘) کے دوستوں اور چاہنے والوں میں سے ہوںگے۔

نیز آنحضرت فرماتے ہیں :کہ جب حضرت قائم آل محمد (عجل اللہ تعالی فرجہ)ظہورکریں گے ۲۷/ آدمی کعبہ کی پشت سے ظاہرہوں گے اور ۲۵/ آدمی موسیٰ کی قوم سے۔ جو سارے کے سارے حق کے ساتھ قاضی اور عادل ہوں گے۔زندہ ہوں گے اور ۷/ آدمی اصحاب کہف سے،یوشع وصی موسیٰ ،مومن آل فرعون،سلمان فارسی ، ابو دجانہ انصاری ، مالک اشتر دنیا میں لو ٹائے جائیں گے۔(۳) اور بعض روایات میں مقداد بن اسود کا بھی نام ہے روایات کے مطابق فرشتے جا بجا پھیل جائیں گے اور نیک لوگوں کو مقامات مقدسہ (کعبہ)میں منتقل کریں گے۔(۴)

اس بناء پر شاید ان کے جسم کعبہ کے کنارے منتقل کئے جا چکے ہیں اور ان کا دوبارہ زندہ ہونااور رجعت بھی وہیں سے ہوگی ایک دوسری نقل کے مطابق شاید یہ جگہ کوفہ شہر کی پشت (نجف) ہو تو پھر روایت کے معنی صحیح ہو جائیں گے۔اس لئے کہ ان کے جسم وہاں یعنی نجف اشرف منتقل ہو چکے ہیں ۔ شایان ذکر یہ ہے کہ یہ لوگ زمانے کے طاغوت کے خلاف سیاسی و فوجی سابقہ رکھتے ہیں خصوصا! ،سلمان فارسی،ابو دجانہ ،مالک اشتر ، مقداد جنھوں نے صدرا سلام کی جنگوں میں شرکت کی ہے اور اپنی ھدایت و راہنمائی کا اظہار کیا ہے بعض لوگ تو کمانڈری کا بھی سابقہ رکھتے ہیں ۔

۲۔حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی فوج

ابو بصیر کہتے ہیں :کہ ایک کوفے کے رہنے والے نے امام جعفرصادق (علیہ السلام) سے پوچھا:کہ حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ٘) کے ساتھ کتنے لوگ قیام کریں گے؟ لوگ کہتے ہیں کہ ان کے ہمراہ اہل بدر کی تعدا د کے بقدر سپاہی ہوں گے یعنی ۳۱۳/ آدمی امام (علیہ السلام) نے کہا حضرت مہدی توا نااور قوی فوج کے ساتھ ظہور کریں گے اور قوی فوج دس ہزار سے کم نہ ہوگی۔

نیز آنحضرت فرماتے ہیں کہ: جب خدا وند عالم حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ٘) کو قیام کی اجازت دے گا ۳۱۳/ افراد ان کی بیعت کریں گے آنحضرت مکہ میں اس وقت توقف کریں گے جب تک کہ ان کے اصحاب کی تعداد دس ہزار نہ ہو جائے پھر اس وقت مدینہ کی سمت حرکت کریں گے ۔

 حضرت امیر الموٴ منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ)کم سے کم بارہ ہزاراور زیادہ سے زیادہ ۱۵/ ہزار لشکر کے ساتھ ظہور کریں گے آپ کی فوجی طاقت کا رعب و دبدبہ سپاہیوں کے آگے آگے ہوگا کوئی دشمن ان کے سامنے نہیں آئے گا مگر شکست کھا جائے گا آنحضرت اور آپ کے سپاہی راہ خدا میں کسی کی ملامت کی پرواہ نہیںکریں گے آپ کے لشکر کا نعرہ ہوگا ((مار ڈالو مار ڈالو))

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت اس وقت ظہور کریں گے جب ان کی تعداد پوری ہو جائے گی “راوی نے پوچھا: ان کی تعداد کتنی ہے؟ حضرت نے کہا: ((دس۱۰/ ہزار))

شیخ حر عاملیۺ کہتے ہیں : کہ روایت میں مکمل فوج کی تعداد ایک لاکھ ہے۔

۳۔ حفاظتی گارڈ

کعب کہتے ہیں : کہ ایک ہاشمی مرد بیت المقدس میں ساکن ہوگا اس کی محافظ فوج کی تعداد ۱۲/ ہزار ہے اور ایک دوسری روایت میں محافظوں کی تعداد ۳۶/ ہزار ہے اور بیت المقدس تک منتہی ہونے والے ہر بڑے راستوں پر ۱۲/ ہزار فوج لگی ہوگی ۔(۴)

البتہ کلمہ حرس جو روایت میںآیا ہے اعوان و انصار کے معنی میں بھی ہے اگر چہ یہ معنی حدیث کے عنوان سے مناسب نہیں ہے اس لئے کہ ممکن ہے کہ حضرت کے اعوان و انصار مرادہوں ۔

د)سپاہیوں کا اجتماع

جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے کہ ،حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے لشکر والے دنیا کے گوشہ و کنار سے ان کے پاس اکٹھا ہو جائیں گے حضرت کے سپاہی کس طرح قیام اور مکہ میں کیسے

 جمع ہو جائیں گے مختلف روایتیں ہیں ؛بعض لوگ رات کو بستر پر سوئیں گے اور امام کے حضورحاضر ہوں گے ؛بعض طی الارض۔کم مدت میں طولانی سفر کا ہونا۔کے ذریعہ حضرت سے جاملیں گے اور بعض افراد قیام سے آگاہ ہونے کے بعد بادلوں کے ذریعہ حضرت کے پاس آئیں گے ۔

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں : کہ جب حضرت مہدی کو خروج اور قیام کی اجازت دی جائے گی تو عبری زبان میں خدا کو پکاریں گے اس وقت ان کے اصحاب ۔ جن کی تعداد ۳۱۳/ ہے اور بادلوں کے مانند پر اکندہ ہیں ۔آمادہ ہو جائیں گے یہی لوگ پر چم دار اور کمانڈر ہیں۔ بعض لوگ رات کو بستر سے غائب ہو جائیں گے اور صبح کو خود کو مکہ میں پائیں گے اور بعض لوگ دن میں بادل پر سوار دیکھائی دیں گے َیہ اپنے نام و نسب اور شہرت سے پہچانے جائیں گے۔“  

مفضل بن عمر کہتے ہیں : کہ میں نے عرض کیا: میں آپ پر فدا ہوجاوٴں؛ کون گروہ ایمان کے لحاظ سے بلند مرتبہ پر فائز ہو گا؟ توآپ نے فرمایا: جو ابر کی بلندی پر سوار ہوں گے وہی لوگ غائب ہونے والوں میں ہیں جن کی شان میں یہ آیہ کریمہ ہے:<اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْاآیَاتِ بِکُمُ اللّٰہ جمیعاً>؛

 ”تم لوگ جہاں بھی ہوگے خدا وند عالم یکجا کر دے گا۔“

رسول خدا فرماتے ہیں : کہ تمہارے بعد ایسا گروہ آئے گا کہ زمین ان کے قدموں تلے سمٹے گی اور دنیا ان کا استقبال کرے گی، فارس کے مرد، عورت ان کی خدمت کریں گے۔ زمین پلک جھپکنے سے پہلے سمٹ جائے گی اس طرح سے کہ ان میں سے ہر ایک شرق و غرب کی ایک آن میں سیر کرلے گا وہ لوگ اس دنیا کے نہیں ہیں اور نہ ہی اس میں ان کا کوئی حصہ ہے۔“

امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے شیعہ اور ناصر دنیا کے گوشے سے ان کی طرف آئیں گے زمین ان کے قدموں میں سمٹ جائے گی اور طی الارض کے ذریعہ امام تک پہنچ جائیں گے اور آپ کی بیعت کریںگے۔ “

عجلان کے بیٹے عبد اللہ کہتے ہیں : کہ امام صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے قیام کی بات چلی تو میں نے حضرت سے کہا: حضرت کے ظہور سے ہم کیسے باخبر ہوں گے ؟ آپ نے کہا: صبح کو اپنے تکیہ کے نیچے ایک خط پاوٴگے جس میں تحریر ہوگا کہ حضرت مہدی کی اطا عت اچھا اور نیک کام ہے۔“

امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں : خدا کی قسم اگر ہمارے قائم قیام کریں گے ،تو خداوندعالم ،شیعوں کو تمام شہروں سے ان کے قریب کر دے گا۔(۴) نیز امام جعفرصادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں :کہ جب ہمارے شیعہ ،چھتوں پر سوئے ہوں گے اچانک ایک شب بغیر کسی وعدہ کے حضرت کے پاس لائے جائیں گے اس وقت سبھی صبح کے وقت حضرت کے پاس ہوںگے

ھ)سپاہیوں کی بحالی کے شرائط اور امتحان

حضرت امیر الموٴ منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں :کہ”حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے انصار ۔ جن کی تعداد ۳۱۳/ ہے ۔ان(حضرت) کی سمت جائیں گے اور اپنی گمشدہ چیز پالیں گے اور سوال کریں گے :کیا تمہیں مہدی موعودہو ؟تو آپ فرمائیں گے : ہاں،میرے ساتھیو!اس کے بعد دوبارہ غائب ہو کر مدینہ چلے جائیں گے جب حضرت کے انصار کو خبر ہو گی راہی مدینہ ہو جائیں گے اس وقت وہ لوگ مدینہ پہنچیں گے ،اور امام پو شیدہ طور پر مکہ واپس آجائیں گے انصا ر حضرت سے ملنے کے لئے مکہ جائیں گے پھر دوبارہ حضرت مدینہ آجائیں گے اور جب چاہنے والے مدینہ پہنچیں گے توحضرت مکہ کا قصد کرلیں گے اسی طرح تین بار تکرارہوگی۔

امام (علیہ السلام) اس طرح چاہنے والوں کو آزمائیں گے تاکہ ان کی پیروی و اطاعت کا معیا ر معلوم ہوجائے اس کے بعد صفاو مروہ کے درمیان ۔ کعبہ میںظاہر ہوں گے اور اپنے چاہنے والوں سے مخاطب ہو کر کہیں گے کہ میں اس وقت تک کوئی کام نہیں کروں گا جب تک تم لوگ شرائط کے ساتھ میری بیعت نہ کرو اور اس پر پابند نہ رہو اور ذرا بھی کوئی تبدیلی نہ ہو ۔میں بھی آٹھ چیز کا وعدہ کرتا ہوں “توسارے اصحاب جواب دیں گے ہم مکمل تسلیم ہیں اور آپ کی پیروی کریں گے جو شرائط رکھنا چائیں رکھ دیں بتایئے وہ شرائط کیا ہیں؟۔

حضرت مکہ میں صفا پہاڑی کی طرف جائیں گے تو ان کے انصار بھی پیچھے پیچھے جائیں گے وہاں ان سے مخاطب ہو کر کہیں گے ”تم سے ان شرائط کے ساتھ عہدو پیمان کرتا ہوں ۱۔میدان جنگ سے فرار نہیں کرو گے ۲۔چوری نہیں کروگے ۳۔ناجائز کام نہیں کروگے۴۔حرام کام نہیں کروگے ۵۔ منکر و بُرے کام انجام نہیں دوگے۶۔کسی کو ناحق نہیں ماروگے۷۔سونا چاندی ذخیرہ نہیںکروگے ۸۔جَو، گیہوں ذخیرہ نہیں کروگے۹۔کسی مسجد کو خراب نہیں کروگے۱۰۔ناحق گواہی نہیں دوگے۱۱۔کسی مومن کو ذلیل و خوار نہیں کروگے۱۲۔سود نہیں کھاوٴگے۔

۱۳۔سختی و مشکلات میں ثابت قدم رہوگے۱۴۔خدا پرست و یکتا پرست انسا ن پر لعنت نہیں کروگے۱۵۔شراب نہیں پیوٴ گے۱۶۔سونے سے بنا لباس نہیں پہنو گے۱۷۔حریر و ریشم کا لباس نہیں پہنو گے۱۸۔ بھاگنے والے کا پیچھا نہیں کروگے۱۹۔ خون حرام نہیں بہاوٴگے۲۰۔کافر ومنافق سے اتحاد نہیں کروگے۲۱۔خز کا لباس نہیں پہنو گے۔۲۲مٹی کو اپنی تکیہ نہیں بناوٴ گے (شاید اس معنی میں ہو کہ فروتن و خاکسار رہوگے)۲۳۔نا پسندیدہ کاموں سے پر ہیز کروگے ۲۴۔نیکی کا حکم دو گے اور بُرائی سے روکو گے۔

اگر ان شرائط کے پابند ہو اور ایسی رفتار رکھو گے تو مجھ پر واجب ہوگا کہ تمہارے علاوہ کسی کو اپنا ناصر نہ بنائیں اور میں وہی پہنوں گا جو تم پہنو گے اور جو تم کھاوٴگے وہی کھاوٴں گا اور جو سواری تم استعما ل کروگے وہی میں استعمال کروں گا جہاں تم رہوگے وہیں میں بھی رہوں گا جہاں تم جاوٴگے وہاں میں جاوٴں گا اور کم فوج پر راضی و خو شحال رہوں گا نیز زمین کو عدل و انصاف سے بھردوں گا جس طرح ظلم و ستم سے بھری ہوگی اور خدا کی ویسی ہی عبادت کروں گا جس کا وہ حقدار ہے جو میں نے کہا اسے پورا کروں گا تم بھی اپنے عہد وپیمان کو پورا کرنا۔

اصحاب کہیں گے :کہ جو آپ نے فرمایا ہم اس پر راضی اور آپ کی بیعت کرتے ہیں اس وقت امام (علیہ السلام) ایک ایک چاہنے والوں سے (بیعت کی علامت کے ساتھ)مصافحہ کریں گے۔

لیکن یہ خیال رکھنا چاہئے کہ حضرت امام (علیہ السلام) نے یہ شراےط و امتحان اپنی خاص فوج کے لئے رکھی ہیں ۔

اس لئے کہ امام (علیہ السلام) کی حکومت کے کار گزاروں میں وہ لوگ ہیں جو اپنے نیک کردار سے دنیا میں عدالت بر قرار کرنے کے لئے ایک موثر اقدام کریںگے ۔

لیکن اس روایت کی سند قابل تاٴمل ہے اس لئے کہ یہ خطبہ بیان سے ماخوذ ہے جس کو بعض لوگوں نے ضعیف سمجھاہے اگر چہ بعض بزرگوں نے اس کا دفاع کر کے قوی بنانے کی کوشش کی ہے۔

و)سپاہیوں کی خصوصیت

روایات میں حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے اصحاب وانصار کی بہت زیادہ خصو صیت بیان کی گئی ہے مگر ہم کچھ کے بیان پر اکتفاء کرتے ہیں :

۱۔عبادت و پر ہیز گاری

امام جعفر صادق (علیہ السلام) حضرت کے اصحاب کی توصیف فرماتے ہیں کہ: وہ لوگ شب زندارانسان ہیں جو راتوں کوقیام کی حالت میں عبادت کرتے ہیں اور نماز کے وقت شہد کی مکھی کی طرح بھنبھناتے ہیں اور صبح کے وقت گھوڑوں پر سوار اپنی (وظیفوں کو)ماٴ موریت انجام دینے جاتے ہیں وہ لوگ رات کے عبادت گزار پاکیزہ نفس اور دن کے دلاور و شیر ہیں اور خوف الٰہی سے ایک خاص کیفیت پیدا کر چکے ہیں خدا ونداعالم ان کے ذریعہ امام برحق کی مدد کرے گا ۔

نیز آنحضرت فرماتے ہیں کہ: ”گویا قائم آل محمد( علیہم السلام) اور ان کے چاہنے والوں کو شہر کوفہ کی پشت پر دیکھ رہا ہوں یوں کہئے کہ فرشتے ان کے سروں پر اپنے پروں کا سایہ کئے ہوئے ہیں اور ان کی پیشانی پر سجدہ کا اثر ہے راہ توشہ تمام ہو چکا ہے اور ان کے لباس بوسیدہ و پرانے ہو چکے ہیں۔ ہاں وہ لوگ شب کے پارسا اور دن کے شیر ہیں ان کے دل آ  ہنی ٹکڑوں کے مانند محکم ومضبوط ہیں ان میں سے ہر ایک چالیس آدمی کی قوت کا مالک ہو گا اور کافر و منافق کے علاوہ کسی کو قتل نہیں کریں گے خدا وند عالم قرآن میں ان کے بارے میں اس طرح فرماتا ہے :<اِنَّ ذَالِکَ لاْیَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِیْنَ>اس میں ہوشمند افراد کے لئے نشانی اور عبرت ہے۔

۲۔امام سے عشق اور آپ کی اطاعت

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرما تے ہیں کہ:صاحب امر کے لئے بعض درّوں میں غیبت ہے ظہور سے دو شب قبل آپ کا نزدیک ترین خادم حضرت کے دیدار کو جائے گا اور آپ سے پوچھے گا کہ آپ یہاں کتنے لوگ ہیں ؟

کہیں گے :کہ چالیس آدمی تو وہ کہے گا تمہارا کیا حال ہوگا ،جب تم اپنے پیشوا کو دیکھو گے جواب دیں گے : کہ اگر وہ پہاڑوں پر زندگی کریں گے تو ہم ان کے ساتھ ہوں گے اور اُسی طرح زندگی گذاریں گے۔“

امام جعفر صادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں :کہ حضرت کے انصار اپنے ہاتھوں کو حضرت امام کی سواری کے زین میں ڈال کر برکت کے لئے کھینچیں گے اور حضرت کے حلقہ بگوش ہوں گے اور اپنے جسم و جان کو ان کی سپر بنالیں گے اور آپ جو اُن سے چاہیں گے وہ کریں گے ۔

نیز آنحضرت حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے انصار و مدد گاروں کی توصیف میں فرماتے ہیں کہ: ان کے پاس ایسے ایسے لوگ ہیں جن کے دل فولاد کے ٹکڑے ہیں وہ لوگ حضرت کے سامنے کنیز کی طرح جو اپنے مولا و آقا کے سامنے مطیع و فرمانبردارہوتی ہے تسلیم ہوں گے۔

رسول خدا فرماتے ہیں :کہ خدا وند عالم حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ٘) کے لئے دنیا کے گوشہ و کنار سے اہل بدر کی تعداد میں ان کے ارد گرد جمع کر دے گا وہ لوگ حضرت کی فرمانبرداری کرنے میں حد سے زیادہ کوشاں ہوں گے۔

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :کہ گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ حضرت قائم

)عجل اللہ تعالی فرجہ) اور ان کے ناصرومدد گار نجف(کوفہ) میں مستقر ہیں اور اس طرح ثابت قدم ہیں کہ گویا پرندہ ان کے سر پر سایہ فگن ہے۔ جنگجو منظم ،تسلیم محض ہو کر حضرت کے سامنے کھڑے ہیں گویا پرندہ ان کے سروں پر سایہ کئے ہوئے ہے اگر معمولی حرکت کریں تو پرندے اڑجائیں گے۔

۳۔سپاہی قوی ہیکل اور جوان ہوںگے

حضرت امیر الموٴ منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ناصر سارے کے سارے جوان ہیں کوئی ان میں ضعیف و سن رسیدہ نہیں ہے جز تھوڑے افراد کے جو آنکھ میں سرمہ یا غذامیں نمک کے مانند ہیںلیکن سب سے کم قیمت زیادہ ضرورت کی چیز نمک ہی ہے۔

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :کہ لوط پیامبر کی مراد اپنی اس بات سے جو انھوں نے دشمنوں سے کہی ہے:اے کاش تمہارے مقابل قوی اور توانا ہوتا یا کسی مضبوط و محکم پایہٴ کی سمت پناہ لیتا ۔

کوئی طاقت مہدی موعود (عجل اللہ تعالی فرجہ)اور ان کے ناصروں کی قدرت کے برابر نہیںہوگی اور ہر ایک آدمی کی قوت چالیس آدمی کے برابر ہوگی ان کے پاس لوہے سے زیادہ ہموار دل ہے اور جب پہاڑوں سے گذریں گے تو چٹان لرز اٹھیں گے خدا وند عالم کی رضا و خوشنودی کے حصول تک وہ تلوار چلاتے رہیں گے۔

حضرت امام سجاد(علیہ السلام) اس سلسلے میں فرماتے ہیںکہ: جب ہمارے قائم قیام کریں گے تو خداوند عالم ہمارے شیعوں سے ضعف و سستی کو دور کردے گا اور ان کے دلوں کو آ ھنی ٹکڑوں کی طرح محکم و استوار کردے گا اور ان میں سے ہر ایک کوچالیس آدمی کی قوت عطا کرے گا یہی لوگ زمین کے حاکم اور رئیس ہوں گے۔(۱)

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ:حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی حکومت میں ہمارے شیعہ زمین کے حاکم اور رئیس ہوں گے اور ان میں سے ہر ایک کو ۴۰/ مرد کی قوت دی جائے گی۔

امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ آج ہمارے شیعوں کے دلوں میں دشمنوں کا خوف بیٹھا ہوا ہے لیکن جب ہماری حکومت آئے گی اور امام مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ)ظہور کریں گے توہماراہر ایک شیعہ شیر کی طرح نڈر اور تلوار سے زیادہ تیز ہو جائے گا اور ہمارے دشمنوں کو پاوٴں سے کچل ڈالیں گے اور ہاتھ سے کھینچیں گے۔

عبد الملک بن اعین کہتا ہے :کہ ایک روز حضرت امام (علیہ السلام)کی خدمت سے جب ہم اٹھے تو ہاتھوں کا سہارا لیا اور کہا:کاش حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ٘) کے ظہور کو جوانی میں درک کرتا (یعنی جسمی توانائی کے ساتھ)تو امام نے کہا کیا تمہاری خوشی کے لئے اتنا کافی نہیں ہے کہ تمہارے دشمن آپس ہی میں ایک دوسرے کو ماریں گے لیکن تم لوگ اپنے گھروں میں محفوظ رہوگے؟ اگر امام ظہور کر جائیں گے تو تم میں سے ہر ایک کو ۴۰/ مرد کی قوت دی جائے گی اور تمہارے دل آھنی ٹکڑوں کی طرح ہوں گے اس طرح سے کہ تم لوگ زمین کے رہبر اور امین رہوگے ۔

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں : کہ ہماراحکم (حضرت مہدی کی حکومت) آتے ہی خدا وند عالم ہمارے شیعوں کے دلوں سے خوف مٹادے گا اور دشمنوں کے دلوں میں ڈال دے گا اس وقت ہمارا ہر ایک شیعہ نیزہ سے زیادہ تیز اور شیر سے زیاد ہ دلیر ہو جائے گا ایک شیعہ اپنے نیزہ اور تلوار سے دشمن کا نشانہ لے کر اسے کچل ڈالے گا۔

اسی طرح حضرت فرماتے ہیں :کہ حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ٘) کے چاہنے والے وہ لوگ ہیں جن کے دل فولاد کے مانند سخت و مضبوط ہیں اور کبھی ان دلوں پر ذات الٰہی کی راہ میں شک و شبہ نہیں آئے گا وہ لوگ پتھر سے سخت اور محکم ہیں اگر انھیں حکم دیا جائے کہ پہاڑوں کو ان کی جگہ سے ہٹا دیں اور جابجا کر دیں تو وہ بہت آسانی اور تیزی سے ایسا کر دیں گے اسی طرح شہروں کی تباہی کا حکم دیا جائے تو وہ فوراً ویران کر دیں گے ان کے عمل میں اتنی قاطعیت ہوگی جیسے عقاب گھوڑوں پر سوار ہو۔

پسند ید ہ سپاہی

امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں :کہ حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ٘) کے ناصروں کو دیکھ رہا ہوں کہ پوری کائنات کا احاطہ کئے ہوئے ہیں اور دنیا کی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو

ان کی مطیع و فرمانبردار نہ ہو زمین کے درندے اور شکاری پرندے بھی ان کی خوشنودی کے خواہاں ہوں گے وہ لوگ اتنی محبوبیت رکھتے ہوں گے کہ ایک زمین دوسری زمین پر فخر ومباحات کرے گی اور وہ جگہ کہے گی کہ آج حضرت مہدی کے چاہنے والے نے مجھ پر قدم رکھا ہے ۔

شہادت کے متوالے

امام جعفر صادق (علیہ السلام) حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ٘) کے ناصروں کی خصوصیات کے بارے میں فرماتے ہیں :کہ وہ لوگ خدا کا خوف اور شہادت کی تمنا رکھتے ہیں ان کی خواہش یہ ہے کہ راہ خدا میں قتل ہو جائیں ان کا نعرہ حسین کے خون کا بدلہ لینا ہے جب وہ چلیں گے تو ایک ماہ کے فاصلہ سے دشمنوں کے دل میں خوف بیٹھ جائے گا۔